جمعہ، 18 ستمبر، 2015

"ایک اور حملہ اور ہمارے قومی رویے"

0 تبصرے
"ایک اور حملہ اور ہمارے قومی رویے"
پشاورایئرفورس کےبڈھ بیرکیمپ پرحملہ
کیپٹن اسفندیار سمیت 29 نمازی شہید جبکہ 13 دہشت گرد واصل جہنم 
اس سے پہلے جتنے بھی دہشتگردی کے واقعات پاکستان میں ہوئے خاص کر ملٹری انسٹالیشن پر کسی کی رپورٹ عوام کے سامنے نہیں لائے گئی اور نہ یہ بتایا گیا کہ آئندہ ایسے واقعات روکنے کے لیئے کیا حکمت عملی بنائی گئی ہے ، اتنے سنگین واقعات پر بھی قو م کو ساتھ لے کر چلنے کی بجائے سیاسی ہو یا ملٹری قیادت ہر طرف ایک روائتی اور گھسا پٹھا ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہوتا ہے۔
٭سیاستدانوں کی طرف سے شدید مذمتی بیانات اور زخمیوں کے لیئے دعا خیر
٭فوج کی طرف سے ایسے واقعات کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے آئندہ برداشت نہ کرنے کا عزم
>اورپھر آہستہ آہستہ نرم نرم انداز میں الزامات کا آغاز
٭ ایک جمہوریت بےزار طبقہ اپنی توپوں کا رخ سیاستدانوں کی طرف کر لے گا کہ سیاستدان متحد نہیں ہیں، قوم کو متحد کرنے میں ناکام رہے ہیں، ان ناہلوں سے تو فوج ٹیک اوور کر لے تو بہتر ہے۔اپوزیشن کے حکومت کی ناکامی اور حکومت کی اپوزیشن پر انتشار پھیلانے کے الزامات کا آغاز۔
٭ دوسرا پاک فوج بےزار طبقہ فوج کے خلاف جھاگ نکالنا شروع کر دے گاکہ ایسے واقعات ملٹری صلاحیت پر سوالیہ نشان ہیں، کہاں گئیں انٹیلی جینس ادارے، اتنا بجٹ فوج پر لگایا جاتا ہے اور کارکردگی یہ ہے کہ دہشتگرد آرام سے اہم علاقوں میں پہنچ جاتے ہیں۔
٭تیسرا دین بےزار طبقہ اسے علماء اور مدارس کے بازو مروڑنے کا بہترین ذریعہ سمجھ کر کف چڑھا کر سامنے آ جائیں گے کہ سب علماء کی ناکامی ہے، یہ دہشتگردوں کے لیئے سافٹ کانر رکھتے ہیں، جب تک مدارس قائم ہیں دہشتگردی کبھی ختم نہیں ہو گی۔ ان مدارس کے خلاف ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔
>اگر یہ قوم کے مستقبل کی جنگ ہے تو کیا ایسے لڑی جائے گی یہ جنگ، دہشتگرد متحد اور فوکس ہیں مگر قوم تقسیم در تقسیم، ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے مشن پر گامزن، میڈیا قوم کو متحد کرنے کی بجائے اپنے مخصوص مقاصد کا پرچارکرتے ہوئے۔ امریکہ یا برطانیہ کی پیروی کا بہت بھاشن دیا جاتا ہے اگر نقالی کرنی ہے تو اس بات میں کریں کیسےوہ قوم متحد ہو گئی سب کی ایک سوچ، ایک نظریہ اور ایک ہدف یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں کوئی دوسرا 9/11 اور برطانیہ میں 7/7 نہیں ہوا۔
کیا پاکستانی قوم کے پاس ہر طرح کی دہشتگردوں کے خلاف یک نکاتی ایجنڈے پرمتحد ہونے کے علاوہ کوئی چارہ کار بچا ہے ؟؟؟ ذراسوچو
(شہزاداسلم مرزا)

پیر، 14 ستمبر، 2015

"مسجد اقصیٰ لہولہو"

0 تبصرے
"مسجد اقصیٰ لہولہو"
پوری امت مسلمہ بالخصوص مسلم حکمرانوں پر کیسی بے حسی، بےغیرتی اور بےضمیری چھائی ہوئی ہے کہ کل اسرائیلی فورسز نے دوبارہ قبلہ اول مسجد اقصیٰ پر حملہ کر کےمسجد کے بہت سے حصوں کو آگ لگا دی اور اوپن فائرنگ سے سینکڑوں فلسطینی نوجوان ، مائیں ، بہنیں بزرگ اور بچے زخمی اور گرفتار ہیں۔ سلام ہے فلسطین کے مظلوم اور نہتے نوجوانوں، بزرگوں ، بچوں اور ماؤں بہنوں کو جو اسرائیلی دہشتگردوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
ہر طرف مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے فلسطین ، کشمیر ، عراق، افغانستان اور شام کی سرزمین کفار کے قبضے اور ظلم کا شکار ہے بارونق علاقے کھنڈرات اور آبادیاں قبرستان کا روپ پیش کر رہی ہیں مگر ہر طرف سکوت مرگ طاری ہے۔
٭ اقوام متحدہ سے کیا گلہ کیا جائے جب او آئی سی ہی بےغیرتی کی نیند سوئی پڑی ہے ۔
٭مغربی ممالک کو کیا الزام دیں کہ 57 مسلم ممالک بزدلی اور بےغیرتی کی تصوریر بنےخاموش ہیں۔
٭مغربی میڈیا سے کیا شکایت کی جائے جب مسلم کنٹرول میڈیا پر ہر طرف محض بےمقصدیت اور بےہودگی کا راج ہے۔
کیا واقعی اس وقت عمرفاروق رضی اللہ عنہ اور صلاح الدین ایوبی کا کوئی ایسا پیروکار نہیں جو سرزمین فلسطین کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کر سکے ۔۔۔ کیا واقعی محمد بن قاسم اور محمودغزنوی جیسے غیرت مند پیدا ہونے بند ہو گئے ہیں جو ہندوؤں کی دہشتگردی سے سرزمین کشمیراورکشمیری بہن بیٹیوں کا دفاع کرے۔
یااللہ تیری امت پر غیرت اور جرات کا یہ کیسا قحط طاری ہے
یااللہ ان مظلوموں کو ظالموں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ۔
یااللہ تو ان کا حامی مددگار بن جا۔ آمین ثم آمین
(شہزاداسلم مرزا)

جمعہ، 11 ستمبر، 2015

"9/11 کا سبق"

0 تبصرے
"9/11 کا سبق"
٭واقعی کمزوری سے بڑی لعنت کوئی نہیں اور طاقت سے بڑھ کر نشہ کوئی نہیں
٭واقعی کمزور کا سچ بھی جھوٹ بن جاتا ہے اور طاقتور کا جھوٹ بھی سچ ماننا پڑتا ہے
٭واقعی کمزور کی حکمت عملی بھی سازش قرار پاتی ہے اور طاقتور کی سازش بھی حق قرار پاتا ہے
٭واقعی کمزور کا محض دفاع بھی دہشتگردی کہلائی جاتی ہے اور طاقتور کی دہشتگردی بھی دفاع سمجھا جاتا ہے
٭واقعی کمزور کا کوئی دوست نہیں ہوتا اور طاقت کی پوجا کی جاتی ہے
٭واقعی کمزور کی حمایت غداری قرار پاتی ہے اور طاقتور کی حمایت مجبوری بنا دی جاتی ہے
بلکہ سچ یہ ہے کہ
٭کمزور کا قتل ہونا اور طاقتور کا قتل کرنا عین عدل و انصاف قرار پاتا ہے۔
بس یہی ہے کل سبق بیسوی صدی کے سب سے بڑے جھوٹ 9/11 امریکہ کے واقعے کا۔ مسلمانوں کو اس سے سیکھنا ہو گا کہ اس دنیا میں علم ، ٹیکنالوجی ، مضبوط معیشت کے بغیر طاقتور نہیں بنا جا سکتا اور علم ، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط معیشت کا حصول باکردار، جرات مند، غیرت مند، بے داغ اور خوف خدا رکھنے والی قیادت کے انتخاب کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ‫#‏ذراسوچو‬
(شہزاداسلم مرزا)

"قائدؒ کا یوم وفات"

0 تبصرے
"قائدؒ کا یوم وفات"
11 ستمبر بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا 67واں یوم وفات ہے 
عموما دیکھنے کو ملتا ہے کہ کسی خاندان کا کوئی بزرگ وفات پا جائے تو سب مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کے ساتھ ساتھ ان کے اوصاف بھی یاد کرتے ہوئے اپنے بچوں کو بڑے فخر سے ان پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں ۔جہاں تک محمدعلی جناحؒ کی بات ہے وہ تو ساری قوم کے بزرگ و رہنما تھے ۔۔ آیئے ان کے یوم وفات پر مختصر انداز میں ان کی شخصیت کے بنیادی اوصاف کو یاد کریں اور عمل کرنے کا عہدکی تجدید کریں۔
٭قائداعظم ؒ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کتاب دوست شخصیت تھے،
٭ قائداعظم ؒ کی ساری زندگی نفاست ،شائستگی اور اعلیٰ ذوق کی عمدہ مثال تھی،
٭ قائداعظمؒ کے دشمن بھی ان کی سچائی اور ایفائے عہد کی گواہی دیتے رہے،
٭ برصغیر کے دور غلامی میں بھی قائداعظمؒ کبھی بھی ہندو اور انگریزوں سے ذہنی غلامی اور مرعوبیت کا شکار نہیں ہوئے،
٭ قائداعظمؒ نے سچائی، علم اور مدلل گفتگو کی طاقت سے سب کو زیر کیا،
٭ قائداعظمؒ نے کبھی بھی بحیثیت فرد اور قائد عزت، غیرت اور حمیت کا سودا نہیں کیا،
٭ قائداعظمؒ نے زندگی کا ایک مقصد منتخب کیا اور صحت کی پرواہ کیئے بغیر پوری زندگی اس مقصد کے حصول میں لگا دی اور بالآخر مقصد حاصل کربھی لیا،
٭ قائداعظمؒ مکمل جمہوری پسند شخصیت تھے وسیع مشاورت کے بعد ٹھوس فیصلے کرتے،
٭ قائداعظم ؒ جتنا برصغیر کے مسلمانوں کے لیئے فکر مند تھے اتنا ہی پوری امت مسلمہ کی حالت زار پر بھی تڑپتے تھے،
٭ قائداعظمؒ پاکستان کے مقصد وجود سے مکمل یکسوئی کے ساتھ آگاہ تھے اس ریاست کی بنیاد صرف اور صرف جمہوریت اور اسلام ہو گا،
٭قائداعظمؒ پر ساری زندگی کبھی مالی و اخلاقی کرپشن اور قانون شکنی کا الزام تک بھی نہیں لگا،
٭ قائڈاعظمؒ شخصیت پرستی، اقرباءپروری، مفاد پرستی سے کوسوں دور تھے،
٭ پاکستان بننے کے بعد قائداعظم نے اپنی تمام دولت، جائیداد اور املاک پاکستان کو وقف کر دیں۔
اب ذرا سوچیں کہ ۔۔
ہمارے ذاتی رویے اور ہمارے منتخب کردہ حکمرانوں کے رویے قائداعظمؒ کے رویوں سے کتنے مختلف بلکہ متضاد ہیں اور پھر ہم سوال اٹھاتے ہیں کہ پاکستان کیوں ناکام ریاست بنتی جا رہی ہے؟ دنیا کہاں پہنچ گئی پر پاکستان کیوں ترقی نہیں کررہا ؟ کیوں پاکستان میں مارشل لا لگتے ہیں ؟ کیوں پاکستانی عوام روزہ مرہ چیزوں سے بھی محروم ہیں ؟ کیوں پاکستان میں ہر طرف جہالت کے ڈھیرے ہیں ؟ کیوں ابھی تک پاکستان پر چند وڈیرو، جاگیرداروں اور صنت کاروں کے خاندانوں کا راج قائم ہے ؟
اس کا جواب کہیں اور نہیں اپنے اندر تلاش کرنا ہو گا اور تبھی بہتری آئے گی۔ ان شاءاللہ
(شہزاداسلم مرزا)

جمعرات، 10 ستمبر، 2015

"سیاست میں مسجد کا کردار"

2 تبصرے
"سیاست میں مسجد کا کردار"
جس سیاستدان کوعوام کی خدمت سے کوئی سروکار نہیں وہ بڑی بڑی عالی شان عمارتوں میں قیمتی سامان سے مزین دفتروں میں بھی کچھ نہیں کر پاتے اور جن کی سیاست کا مقصد ہی خدمت ہو وہ کہیں بھی بیٹھ کر عوامی مفادات کے لیئے جدوجہد کر سکتے ہیں۔ 
سراج الحق صاحب کو مسجد میں بیٹھے عوام کے مسائل حل کرتے دیکھ کر بھولا ہوا سبق یاد آ گیا کہ مسلمانوں کا تو سب کچھ مسجد ہی تو تھا ۔ نبی مہربان ﷺ اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہ نے دنیا کی قیادت مسجد میں بیٹھ کر کی ۔ عبادات کے ساتھ ساتھ مساجد ہی سیاست کا مرکز ہوا کرتا تھا، مسجد سے ہی سرکاری احکام سامنے آتے، مسجد میں وفود سے ملاقاتیں ہوتیں، مسجدمیں ہی صلح و جنگ کے فیصلے کیئے جاتے، مساجد محض عبادات کے مراکز نہیں تھے بلکہ کمیونٹی سنٹرز کا روپ پیش کر تے جہاں سے عوام کی روحانی تربیت کے ساتھ ساتھ اخلاقی و معاشرتی تربیت بھی ہوتی اور عوام کے سماجی مسائل کا حل بھی پیش کیا جاتا۔
سیکولرزم کے نام پر کتنی خوبصورتی سے سیاست کو مساجد سے الگ کر کے مساجد میں سیاسی گفتگو کرنا منع ہے کا بورڈ لگوا کر سیاست و اختیار مسجد بےزار لوگوں کے حوالے کروا دیا گیا ہے۔جب سے سیاست کو مسجد سے نکالا گیا ہے سیاست کرپشن ، لوٹ مار، بےحیائی اور شخصی مفادات کی علامت بن گئی ہے ۔ اگر واقعی اسلامی و فلاحی ریاست کی عملی تعبیز دیکھنی ہے تو مساجد کو حقیقی عوامی رول کی طرف واپس لانا ہوگا۔
سراج الحق صاحب کا یہ خواب ایک دن ضرور پورا گا کہ سیاست کے ساتھ ساتھ جب نماز کا وقت آئے تو ریاست کا صدر خود اذان دیتے ہوئے اور وزیراعظم امامت کرتے ہوئے نظر آئیں۔ امامت اور سیاست کا ملاپ ہی حقیقی اسلامی و خوشحال پاکستان کی منزل کو قریب تر کر سکتا ہے۔
(شہزاداسلم مرزا)

بدھ، 9 ستمبر، 2015

"جسٹس جواد ایس خواجہ کا تاریخی حکم"

0 تبصرے
"جسٹس جواد ایس خواجہ کا تاریخی حکم"

پاکستان اپنے نظریاتی اساس کے مطابق بہت کم چلایا گیا ہے بس ہر عشرے یا دو عشروں کے بعد کوئی ایسی خبر سننے کو ملتی ہے امید بحال ہو جاتی ہے اور یقین ہونے لگتا ہے کہ صرف آئینی ادارے اپنا کردار بہترین انداز میں نبھائیں تو اکثر مسائل حل ہو جائیں گے۔
ہر  زبان  متعلقہ معاشرے کی   پہچان ، ثقافت ، کلچر اور تہذیب  کی علامت ہوتی ہے اسے نظرانداز کر دینے سے نہ تشخص  برقرار رہتا ہے اور نہ ترقی ممکن ہو سکتی ہے کیونکہ دنیا کی 5ہزار سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ کسی قوم نے اپنی زبان چھوڑ کر کبھی ترقی نہیں کی۔قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اردو کو قومی زبان کا درجہ اسی لیئے دیا تھا کہ یہ مختلف عکائیوں میں زنجیر کا کردار ادا کرے گی  مگر 68 سال گزرنے کے بعد بھی بابوؤں نے اسے نافذ نہ ہونے دیا حالانکہ 1973 کا آئین اسے 10 سال میں نافذ کرنے کا پابند بناتا تھا۔ 
اللہ بھلا کرے مختصر مدت کے لیئے چیف جسٹس بننے والے جواد خواجہ صاحب کا جنہوں نے اپنے تاریخی اقدام سے حکومت کو نظام سلطنت اردو میں چلانے پر مجبور کر دیا۔ بےشمار افراد طویل مدت بااختیار رہنے کے باوجود تاریخ کے اوراق میں دفن ہو جاتے ہیں مگر کچھ شخصیات مختصر مدت میں بھی وہ کام کر جاتے ہیں کہ تاریخ انہیں ہمیشہ نمایاں انداز میں یاد کرتی ہے۔ جسٹس جواد خواجہ کے ایک فیصلے نے انہیں امر کر دیا ۔ جواد خواجہ صاحب کو حراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مجھے سراج الحق بھی یاد آ رہے ہیں جو پہلی بار وزیر خزانہ بنے ہی تھے تو انہوں نے وزارت کا سارا نظام اردو میں کر کے حکومتی لیول پر پہلا عملی قدم اٹھایا  تھا اور عدلیہ اور وفاقی حکومت سے مطالبہ اور زور دیتے رہے کہ اردو کو نافذ کر کے آئینی ذمہ داری ادا کریں ان کی جدوجہدکو بھی حراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
اللہ کرے اب حکومت اور بیوروکریٹ اس فیصلے کی راہ میں رکاوٹ بننے کی بجائے اس فیصلے کے مطابق علمدرآمد کے لیئے راہ ہموار کریں ایسا کرنا مسلم لیگ ن کی حکومت کا بہترین تاریخی  کریڈٹ بن سکتا ہے۔ 
(شہزاداسلم مرزا)

بدھ، 2 ستمبر، 2015

"عشق حقیقی اور عشق مجازی کا تصور"

0 تبصرے

"عشق حقیقی اور عشق مجازی کا تصور"
خوشی کے جزبات سے مزین تصویر ایک ایسی بچی کی ہے جو جرمنی جیسے معاشرے میں پروان چڑھی، جسے سکول میں حجاب پہننے پر پابندی کا سامنا تھا ۔ عدالت سے رجوع کرنے پر اسے حجاب پہننے کی اجازت مل گئی اور اللہ کےشکر سے لبریز قیمتی آنسوں بطور نذرانہ چھلک گئے۔
اذیت سے مزین خون آلوددوسری تصویر ایک ایسی بچی کی ہے جو ایک اسلامی ملک پاکستان میں پروان چڑھی، جسے اتنی آزادیاں حاصل تھیں کہ وہ کھلم کھلا اپنے محلے اور سکول کے لڑکے سے محبت کرنے لگی، اپنے والد کی بندوق تک اتنی آسان رسائی تھی کہ محبت کی ناکامی پر اسی بندوق سے خود کشی کر لی اور اپنے خاندان کے لیئے جدائی سے ذیادہ شرمندگی کے آنسو مقدر کر گئی۔
آج کے دور میں یہ دونوں محبت سے سرشار واقعے "عشق حقیقی اور عشق مجازی" کی مختصر تفسیر بیان کرنے کے لیئے کافی ہیں۔ اگر والدین کی تربیت کا محور اللہ تعالیٰ ہو جائے تو عشق حقیقی کی منازل جرمنی جیسے معاشرے میں بھی طے کی جا سکتی ہیں اور اگر والدین کی تربیت کا محور اللہ تعالیٰ کے علاوہ سب کچھ ہو تو عشق مجازی کا سفر پاکستان جیسے اسلامی ملک میں بھی عبرت ناک انجام سے دوچار کر سکتا ہے۔
کراچی  واقعے میں کسے قصوروار ٹھہرایا جائے۔۔۔
٭ان والدین کو   جو اپنے بچوں کو سب کچھ بتاتے اور سیکھاتے ہیں بس مقصد زندگی جیسی نعمت قدر اور مقصد زندگی کے حقیقی تصور سے کبھی آشنا نہیں کرتے اور بچے دنیا کی ہی لزتوں کے حصول کو ہی سب سے بڑی حقیقت سمجھ کرزندگیاں برباد کر لیتے ہیں۔
٭ان تعلیمی اداروں کو جو بھاری فیسیں تو وصول کر تے ہیں مگر بچوں کی اخلاقی تربیت پر کوئی توجہ نہیں دیتے بلکہ اخلاق باختہ تقاریب کا انعقاد کر کے باقائدہ مادر پدر ماحول فراہم کرتے ہیں۔
٭ایسی حکومت کو جو ٹی وی چینلز اور انٹر نیٹ پر وبا کی طرح پھیلتی فحاشی و عریانی پر آنکھیں بند کیئے ہوئے ہیں بلکہ کوایجوکیشن کو پروموٹ کرکے خودبچوں کے بچپنے کو چھیننے کا باعث بن رہی ہے۔
٭ان علماء کو جوگلی گلی مساجد و مدارس کھول کر نفرتیں تو عام کرتے ہیں مگر ان کو اسی محلے کے بچوں کی اسلامی تربیت کی کوئی فکر نہیں،
٭یا معاشرے کی عمومی بےحسی پر جو حادثات و سانحات کو دیکھتے ہیں ، افسوس کرتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں ان سانحات کے بنیادی محرکات کو روکنے کے لیے کوئی اجتماعی جدوجہد نہیں کرتے۔
سیلاب اور زلزلے کی تباہی کو تو کچھ عرصے میں بحال کیا جا سکتا ہے مگر ایک نسل کی تباہی سے قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانا بہت مشکل ہو جائے گا۔؟
(شہزاداسلم مرزا)