جمعہ، 20 نومبر، 2015

" سوری عوام جی "

0 تبصرے
" سوری عوام جی  "
میں آج تک عوام کی سوچ اور خواہشات کا غلط اندازہ لگا کر پیش کرتا رہا ۔ میں سمجھتا تھا پی پی پی انتہائی کرپٹ اور نااہل پارٹی ہے عوام نے ان پر بار بار اعتماد کیا مگر یہ عوام کو غربت، محرومی اور بدترین غلامی کے سوا کچھ نہ دے پائی، پی پی پی نے عوام کے جزبات سے کھیلا ہے مگر سندھ کی عوام نے مجھے جھنجھوڑ کر بتایا کہ تم غلط سوچتے ہو، ہمیں یہی پارٹی تو چاہئے جس کے دامن میں ہی سکون ملتا ہے۔
میں آج تک یہی سوچتا رہا مسلم لیگ (ن) نے خصوصا پنجاب کے عوام کا بدترین استحصال کیاانہیں چند میگا پراجیکٹ کے پیچھے لگا کر انہیں پٹوایوں، تھانے داروں اور جاگیر داروں و صنعت کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور بدترین خاندانی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے مگر پنجاب کی عوام نے زور دار انداز سے مجھے بتایا تم غلط تھے، ہماری تمام آرزوؤں کی واحد علامت مسلم لیگ ن ہی ہے۔
مجھے لگتا تھا ایم کیو ایم نے کراچی و حیدرآباد کو قتل و غارت ، بھتہ خوری ، بوری بند لاشوں اور مافیا ٹائپ بدترین غلامی میں مبتلا کر رکھا ہے، یہ دھونس اور دھاندلی کے ذریعے عوام کے سروں پر قابض ٹولہ ہے مجس سے عوام بہت تنگ ہے مگر اربن سندھ نے ثابت کر دیا کہ غلط سوچتے ہو ہمیں بھتہ خور اور قاتل پسند ہیں اپنی سوچ اپنے پاس ہی رکھو۔
٭ جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اب عوام تبدیلی چاہتے ہیں یا کم از کم بہتری تو ضرور چاہتے ہیں سب بکواس سمجھتے تھے اس عوام کو اپنی رسی، اپنا ڈربہ، اپنا اسطبل، اپنا پنجرہ اور اپنا پٹہ بہت عزیز ہے واقعی کسی نے سچ کہا غلامی کی زنجیریں توڑنا اتنا آسان نہیں ، ایک مطمئن غلام اپنی زنجیروں سے بہت پیار کرتا ہے۔سوری عوام جی
(شہزاداسلم مرزا)

پیر، 9 نومبر، 2015

0 تبصرے
"علامہ اقبالؒ اور آج کا نوجوان"
حضرت علامہ اقبالؒ ان عظیم افراد میں شامل ہیں جو صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور صدیوں تک اپنے اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کی سوچ اور فکر کسی کم ظرف حکمران کی تائید کی ہر گز محتاج نہیں ہے مگر میرا تو سارا احتجاج ان نوجوانوں کے رویوں پر ہے جن کی زندگیوں کو باعزت ، باکردار اور بامقصد بنانے کے لئے علامہ نے تقریبا سارا کلام لکھا۔ 
علامہ اقبالؒ نے خودی کا سبق دیا تو آج کے نوجوانوں نے "سیلفی" کو ہی خودی کا مطلب سمجھ لیا، علامہ نے مغربی تہذیب سے دور رہنے کی تلقین کی مگر مغربی تہذیب ہی ہمارے نوجوان کے لئے رول ماڈل بن گئی ، علامہ نے نوجوانوں کو شاہین سے تعبیر کرکے اعلیٰ صفات کا حامل بننے کے لئے ابھارامگر نوجوانوں نے شارٹ کٹ، رشوت اور ترک وطن کو ہی بہترین صفت سمجھ لیا، علامہ نے اسلامی نظریہ کو نظام کی بنیاد قرار دیا مگر قوم کے نوجوانوں نے سیکولرزم اور آزادخیالی کو بطور نظام پسند کر لیا، علامہ نے ملوکیت کو خطرناک قرار دیا نوجوانوں نےشخصیت پرستی کو ہی قبول کر لیا ، بالوں کی بےڈھنگی کٹنگ، کانوں میں بالی ، گلے میں ہار ، تنگ پتلونے پہنے اور چوکوں چوراہوں پر کھڑے نوجوان کیا واقعی کبھی علامہ اقبالؒ کے شاہین بن سکتے ہیں؟۔ نوجوان اگر حقیقت میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے خود کو بدل اقبال کی سوچ کے مطابق بنانا ہو گی کیونکہ ۔ ۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
(شہزاداسلم مرزا)