ہفتہ، 29 اگست، 2015

"یوم شہادت سید قطبؒ ۔۔29اگست 1966"

0 تبصرے
"یوم شہادت سید قطبؒ ۔۔29اگست 1966"
مصر میں فرعونیت کے تسلسل کی ایک لڑی جمال عبدالناصر تھا اس میں بھی ہر فرعون کی طرح کی درندگی، حیوانیت، اسلام بیزاری اور اقتدار کا اندھا نشہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ لیکن اللہ کی مشیت ہے کہ ہر فرعون کے لیئے موسیٰ ضرور پیدا کرتا ہے جو ظلم و تشدد کے باوجود حق کا علم جھکنے نہیں دیتا، مصر میں اخوان المسلمون کے قائدین اس دور کے فرعونوں کے سامنے موسیٰ بنے کھڑے ہیں۔
معروف ادیب اور اسلامی سکالر سید قطبؒ کو اللہ کے نظام کی جدوجہد اور جمال ناصر کے فرعونی اقتدار کی اطاعت نہ کرنے کی پاداش میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔پھانسی دینے سے پہلے سرکاری مولوی نے روایت نبھاتے ہوئے کہا ''کلمہ پڑھ لو '' سید قطب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔۔
''اسی کلمے کے لیے تو پھانسی دی جارہی ہے''
سید قطبؒ 24 کتابوں اور ناول کے مصنف تھے مگر ان کی سب سے شہرہ آفاق تصنیف قرآن شریف کی تفسیر "فی ظلالِ القرآن" ہے۔ اللہ پاک سید قطب شہیدؒ اور اخوان کی دیگر شہیدقیادت کے درجات بلند فرمائے اور ان کی جدوجہد کو قبول کرکے فرعونیت کے بت کدے کو ہمیشہ کے لیئے نابود کردے۔ آمین
(شہزاداسلم مرزا)

جمعہ، 28 اگست، 2015

جنرل راحیل شریف صاحب

0 تبصرے

"جنرل راحیل شریف صاحب"
آپ نے ضرب عضب کے ذریعے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی۔۔اچھاکیا
آپ نے نوازشریف کی انڈیا سے اندھی محبت کو لگام ڈلوائی۔۔ اچھا کیا
آپ نے کراچی میں درندگی، ڈر اور خوف کا ماحول ختم کیا۔۔ اچھا کیا
آپ نے MQM کے ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں کو بےنقاب اور گرفتار کیا۔۔اچھاکیا
آپ نے شیطانی مرکز نائن زیرو کےخوف کے قلعے کو مسمار کیا۔۔ اچھا کیا
آپ نے سندھ حکومت کی نااہلی اور ناکامی کو سب پرعیاں اورقابل گرفت بنایا۔۔اچھا کیا
آپ نے زرداری ٹولے کی کرپشن اور لوٹ مار پر ہاتھ ڈالا ۔۔ اچھا کیا
٭مگر جناب آپ ۔۔۔
اس ملک میں بیرونی مداخلت، دہشتگردی اور کرپشن کے اصل کردار جنرل پرویز مشرف کو نظر انداز کر گئے جس کی بدولت پاکستان نہ صرف عسکری دہشتگردوں کی جنت بنا بلکہ معاشی اور سیاسی دہشتگردوں کو بھی کھل کر کھیلنے کا موقع میسر رہا۔ ایم کیوایم کو درندگی، بھتہ خوری، قتل وغارت، چائنہ کٹنگ، لینٖڈ گریبنگ اور منی لانڈرنگ کرنے کا اوپن سرٹیفیکیٹ حاصل رہا، امریکہ سمیت تمام ایجنسیز کے لوگ کتوں کی طرح سرعام پھرتے نظر آئے، جس فرد کی بدولت قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ ظلم کا شکار ہے، جس نے لال مسجد کو پاکیزہ بچیوں کے خون سے نہلا کر نوجوانوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کیا اور جس نے ملک کے تمام ادارے کرپٹ اور سفارشی افراد کے ہاتھوں تباہ و برباد کر دیئے ، زرداری جیسا مشہور کرپٹ مسٹر10٪ اگر ملک کا صدر بن گیا تو محض اس NRO کی بدولت جو مشرف کے مجرمانہ سوچ کی پیداوار تھا۔۔۔آخر کیوں؟؟ ۔۔ اس مشرف پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالا جا رہا جس کی وجہ سے پاک فوج ملک میں اتنی بدنام ہو گئی تھی کہ کوئی فوجی باوردی سرعام پھر نہیں سکتا تھا۔
محاورتا کہا جاتا ہے چوری روکنی ہے تو" چور نہیں چور کی ماں کو پکڑو" تو جناب ان سب فسادات، کرپشن، قتل وغارت اور انتشار کی ماں مشرف ہے اور قوم شدت سے منتظر ہے اس پر کب ہاتھ ڈالا جائے گا؟
ُ(شہزاداسلم مرزا)

"یوم شہادت راشدمنہاسؒ"

0 تبصرے

"یوم شہادت راشدمنہاسؒ"
اس دنیا کی سب سے عظیم ترین نعمت زندگی ہے مگر اگر کوئی شخص عین جوانی میں اس قیمتی ترین نعمت کو ایک مقصد، ایک ہدف اور ایک نظریہ کی خاطر اللہ کے نام پر حاصل کی گئی سرزمین کے لیئے سوچ سمجھ کر قربان کر دینا دیتا ہے تو یہ اندازہ لگانا مشکل بالکل نہیں کہ اس شخص کی اپنے اللہ سے اور اس سرزمین سے محبت کتنی بلند تھی۔
20 اگست 1971 کو نوجوان راشد منہاسؒ نے نہ صرف غدار وطن کے منصوبے کو خاک میں ملایا بلکہ مملکت خداداد پاکستان کی حرمت کی خاطر باقائدہ پلاننگ اور عزم سے اپنی زندگی نچھاور کر دی۔
راشد منہاسؒ کی زندگی میں نوجوانوں لیئے پیغام ہے کہ
٭ اپنے پروفیشنل کیریئر کو بھرپور اہمیت دی جائے
٭جس کیریئر کو بھی اپناؤ اسے عظیم مقصد کے لیئے استعمال کریں
٭ اسلام اور ملک کی حرمت اور شان کے لیئے ہر قربانی دینے کے لیئے پرعزم رہنا
٭ اسلام اور پاکستان کی خاطر جان دینا پڑے تو خوشی اور فخر سےجان نچھاور کر دینا۔
اللہ پاک راشدمنہاس سمیت تمام شہداء کو بلند درجات اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی ہمت اور طاقت عطا فرمائے۔آمین
(شہزاداسلم مرزا)

"75سالہ دوست کی سالگرہ"

0 تبصرے
"75سالہ دوست کی سالگرہ"
واقعی سچ کہا جاتا ہے کہ بچپن کی دوستی کا کوئی متبادل نہیں ہوتا
میں بھی ان خوش قسمت افراد میں شامل ہوں جسے اپنے بچپن سے ہی ایک ایسے دوست کی ہم نشینی کا شرف حاصل ہوا ہے جو عمر میں تو مجھ سے کافی بڑا تھا مگر پھر بھی عمر کے ہر دور کے تقاضوں کے مطابق مجھ سے دوستی نبھاتا رہا ۔ 
٭وہ اچھا دوست تھا جس نے میری تنہائی کو رونق بخشی 
٭وہ بہترین استاد تھا جس نے میری سماجی،معاشرتی، علمی اور سیاسی میدان میں تربیت کی،
٭وہ میرے والد جیسا شجر سایہ دار تھا ہر مصیبت اور پریشانی میں ہمت و حوصلہ دینے والا
٭وہ میری ماں جیسا تھا جس کی گود نے قرآن فہمی، اسلام شناسائی اور تہذیب و تمدن سیکھایا
٭وہ پاکیزہ دوستوں کی اجتماعیت جیسا جس کے جلو میں اعتماد اور عزت و مرتبہ حاصل ہوا
آج میرے اس دوست، بھائی،باپ، ماں اور استاد یعنی "جماعت اسلامی پاکستان" کا یوم پیدائش (تاسیس)ہے۔ میرے اس دوست کی اس 75 سالہ زندگی جزبوں، قربانیوں اور جدوجہد سے عبارت ہے مجھے افسوس میں اپنے دوست کو کوئی تحفہ نہ دے سکا مگر میرے دوست میں مجھے اس دنیا میں اچھے مسلمان اور پاکستانی بن کر جینے کا سلیقہ سیکھا کر بہترین تحفے سے نوازا ہے جس کا قرض کبھی نہیں چکا سکوں گا۔
‫#‏یوم_تاسیس_جماعت_اسلامی‬
(شہزاداسلم مرزا)
0 تبصرے

"یہ کیسا انتخابی نظام ہے؟"
شہزاداسلم مرزا
پچھلے الیکشن کے انعقاد کو تقریبا 3 سال ہونے والے ہیں مگر مختلف حلقوں پر بےشمار اعتراضات اور شکایتیں پر ابھی تک الیکشن ٹربیونل اور عدلیہ فیصلے نہیں کر پائی۔ اور اگر کسی حلقے کے متعلق فیصلہ ہو بھی جائے تو عدالت عظمیٰ سٹے آرڈرکی چھتری تلے باقی 2 سال بھی باآسانی گزارے جا سکتےہیں۔ بے شمار مقبول حلقوں اور لیڈرز کے سٹے آرڈرز کے متعلق تو سب جانتے ہیں مگر کراچی کی صوبائی سیٹ پر کھلی دھاندلی ثابت ہو جانے کے باوجود سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے حق میں سٹے آرڈر دے کر جماعت اسلامی کے عبدالرزاق خلجی کو اسمبلی سے باہر بیٹھا رکھا ہے۔
آخر پوری حکومتی مشینری، الیکشن کمیشن اور عدلیہ کی یہ بدترین ناکامی نہیں کہ عمران خان کو 4 حلقوں پر انصاف حاصل کرنےکے لیئے 3 سال عوامی جدوجہد اور کروڑوں روپے خرچ کرنا پڑے۔ آخر ان 3 سالوں میں دھاندلی سے جیتے ایم این ایز اور ایم پی ایز کی طرف سے کی گئی قانون سازی اور حاصل کردہ مراعات کے متعلق کون جواب دے گا؟
لیکن کیا ان چند حلقوں کے نتائج کالعدم قرار دلوا کر ضمنی الیکشن کروا دینا ہی اصل کامیابی ہے؟
نہیں؟ بالکل نہیں؟ ۔۔۔ اس انتخابی اور عدالتی نطام کے ہوتے ہوئے کسی بڑی تبدیلی کے خواب دیکھنا بیوقوفی سے کم نہیں۔ واقعی اگرحقیقی تبدیلی لانی ہے تو اس ناکام نظام کے خلاف قدر مشترکہ مقاصد کی حامل جماعتوں کو یک نکاتی ایجنڈے پر جدوجہد کرنا ہو گی تاکہ جدید تقاضوں کےمطابق الیکشن ریفارمز عمل میں لائی جا سکیں ورنہ یہی دھاندلی، یہی رونا ، یہی دھرنا، یہی ٹربیونل ، یہی عدلیہ اور یہی انتظار ۔ 
frown emoticon(شہزاداسلم مرزا)

بدھ، 19 اگست، 2015

0 تبصرے
"درندگی کا حد سے گزرنا دیکھو"
قصور میں ایک گروہ کاانکشاف ہوا ہے جو تقریبا 287 بچوں کو جسمانی درندگی کا نشانہ بنا چکا ہے اور ان جانوروں کی دیدہ دلیری کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ انہوں نے شائد بلیک میلنگ کی خاطر باقائدہ ان بدفعلیوں کی ویڈیوز بھی بنارکھی ہیں اور اس اذیتناک واقعے کا تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس درندہ صفت گروہ کو مسلم لیگ ن کے ایم پی اے ملک سعید اور دیگر حکومتی ذمہ داران سرپرستی حاصل ہے۔
ذرا سوچو ۔۔ ہمارے معاشرے کی اخلاقی تنزلی کن حدوں کو چھو رہی ہے اب بچا کیا ہے ؟ کون سا جرم ہے جس کی داستانیں زبان زدعام نہیں، کون سا گناہ ہے جو ہونا باقی رہ گیا ہے، زندہ خواتین کی مظلومیت تو ایک طرف یہاں تو مردہ خواتین کو قبروں میں بھی نہیں چھوڑا گیا اور اب یہ معصوم بچے معصوم پھول جن سے ایک لمحے میں ان کی معصومیت چھین لی گئی ،جنگلوں کے جانور بھی بچوں کی حرمت سے آگاہ ہیں مگر انسانوں کا جنگل اس حرمت کو بھی پامال کر گیا۔
کون ہے اصل قصوروار ؟ یقینا وہ حکمران بھی جن کو عوام اپنی جان مال کی حفاظت کے لیئے منتخب کرتے ہے اور وہ عوام بھی جو ان بےغیرت درندوں کو قیمتی ووٹ ڈال کر اپنا مستقبل غیر محفوظ بنا لیتے ہیں۔
کیا اب بھی کوئی یہ سوال پوچھے گا کہ ۔۔۔
ہمارے ملک میں آفتیں کیوں آتی ہیں اور ہمارا ملک آزمائش سے کیوں دوچار رہتا ہے؟
‫#‏شرمناک‬
(شہزاداسلم مرزا)

0 تبصرے

کچھ دوستوں کی محفل میں زیر بحث تھاکہ 14اگست کے حوالے سے ان کا کیا پروگرام ہے؟
ایک دوست کا کہنا تھا خوب مستی۔۔ 13 اور 14 کی رات موٹر سائیکل کا سائیلنسر نکال کر بازاروں اور سڑکوں پر موج مستی اور کھابے ۔۔ پھر دوسرا دوست بولا یار 14 کی چھٹی گھر آرام سے سو کر یا ایک آدھ انڈین مووی دیکھ کر گز جائے گی۔۔ اور تیسرا بولا دفعہ کرو 14 اگست آخر اس ملک نے ہمیں دیا ہی کیا ہے ؟
بحیثیت قوم ہم کیسے المیے سے دوچار ہیں کہ جن انگریزوں اور ہندوؤں اور ان کے تہذیب و تمدن سے آزادی حاصل کی آج انہی کے کلچر اور ثقافت کو دل سے لگائے ذہنی غلاموں جیسی تصویر بنے بیٹھے ہیں،اندراگاندھی نے کتنی بڑی صداقت بیان کی تھی کہ نے ہم نے پاکستان کو کلچر اور تہذیب کے میدان میں شکست فاش دے دی ہے ۔۔واقعی سچ ہی تو کہا ہماری تقریبات، مہمات، زبان اور رسم و رواج سب انگریز اور ہندو کلچر کے مطابق ہی تو ہو رہا ہے اور دکھ یہ ہے اس المیے کا ہمیں ادراک بھی نہیں ہو پا رہا۔
ہمارے والدین، اساتذہ، نصاب تعلیم ، دانشوروں، علماء اور حکمرانوں میں سے کسی نے بھی آج کے نوجوان کو پاکستان کے قیام کا مقصد، دو قومی نظریہ، قیام پاکستان کی جدوجہد میں دی گئی قربانیوں، غلامی جیسی لعنت اور آزادی جیسی نعمت کے متعلق دلیل سے سمجھانے کی زحمت گوارا نہیں کی اور بدقسمتی سے نوجوانوں میں بھی ان عوامل سے آگاہی حاصل کرنے کی کوئی تڑپ موجود نہیں ہے۔
کیا اتنی بات سمجھانا یا سمجھنا مشکل ہے کہ آزادی کی قدر پہچاننا ہے تو کشمیریوں، فلسطینیوں، برمیوں، عراقیوں، شامیوں اور افغانیوں سے پوچھو ۔۔ بےشمار قربانیاں دینے کے باوجود جن کو نہیں پتاہوتا کہ اگلے چند لمحوں میں ان کے مال، عزت و آبرو اور زندگی کے ساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے؟
نوجوانوں ۔۔میں ڈھنگ سے خوشی اور جشن منانے کے ہرگز خلاف نہیں مگر ساتھ ساتھ خد 27 ویں رمضان کو حاصل ہونے والی آزادی اور وطن کی اہمیت سمجھتے ہوئے اللہ کے حضور خصوصی شکرانے کے نوافل کا اہتمام اور تجدید عہد کے جزبے کے ساتھ بھی گزارو۔ یہی ہےلاکھوں قربانیاں دینے والے بانیان پاکستان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین انداز اور طریقہ۔
(شہزاداسلم مرزا)
0 تبصرے

"جنرل ریٹائرڈ حمید گل بھی رخصت ہو گئے ..1936 تا 2015"
اناللہ واناالیہ راجعون
حمید گل صاحب سے پہلا تعارف سکول کے زمانے میں اسلامی جمیعت طلبہ کے کسی اجتماع سے ہوا۔ ان کا لیکچر سننے کے بعد بس ذہن پر ایک ہی سوال تھا کہ یہ کون ہے؟ جس کی ساری گفتگو اسلام اور پاکستان کی محبت سے سرشار تھی جنہیں آسان لہجے اور دلیل سے موقف بیان کرنے میں ملکہ حاصل تھا۔
تب پتا چل یہ وہ شخص ہے جس کی تبدبیر اور حکمت عملی نے سرخ آندھیوں کو بے وزن کر دیا 
جس کی پلاننگ نے سوویت یونین کو زخم چاٹنے پر مجبور کر دیا
جس کی پشت پناہی نے افغانستان کو سوویت یونین کا قبرستان بنا دیا
جس نے کشمیریوں میں آزادی کی نئی رخ پھونک کر انڈیا کو ہلقان کر دیا
جس نے جہاد افغانستان میں الجھے پاکستان کو انڈیا کی مکاری سے بچانے کے لیئے خالصتان تحریک کارنامہ انجام دیا
جس نے انڈیا کی براس ٹیک فوجی ایکسرسائز کا منہ توڑ جواب ضرب مومن کی شکل میں دیا
جس کے زرخیر دماغ نے ISI کو دنیا کی ٹاپ ترین ایجنسیز کی فہرست میں لا کھڑا کیا کہ اب جس کا نام بھی انڈیا، امریکہ اور اسرائیل کے ایوانوں لرزا طاری کر دیتا ہے۔
ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیئے جس سیاسی حکمت عملی کے وہ قائل تھے اس طریقہ کار سے اختلاف تو یقینا کیا جا سکتا تھا مگر اسلامی نظام سے ان کی کمٹمنٹ کو کسی انداز میں بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ اسی جہادی اور نظریاتی فکر کی بدولت حمید گل صاحب "دل یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے بھی رہے"
امریکہ، انڈیا، سیکولرز، ملحد، بےنظیر اور دیگر اسلام بیزاروں کو جب بھی ان کے خلاف زہر اگلتے سنا تو دل نے ہمیشہ یہی گواہی دی کہ" حمید گل تو واقعی کامیاب ہو گیا"
کچھ ہی وقفے سے ملا عمرؒ کے بعد حمید گل صاحب کا دنیا سے چلے جانا نظریاتی و جہادی فکر کے حامل افراد کے لیئے کسی المیہ سے کم نہیں۔ اللہ دونوں مجاہدین کو جنت الفردوس میں بلند مرتبہ عطا کرے اور لواحقین جو کے پورا ملک ہے صبر جمیل سے نوازے۔ آمین
(شہزاداسلم مرزا)

0 تبصرے
"17 اگست جنرل ضیاءالحق شہید کی برسی"
ہر انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے اس دائمی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے افراد کے متعلق تجزیہ اعتدال اور انصاف کا تقاضا کرتا ہے کہ تعصب کے بغیر اچھے کام کی تعریف اور غلط عمل پر تنقید ہو مگر بدقسمتی سے جنرل ضیاء الحق شہید کے متعلق بحیثیت مجموعی تجزیہ بدترین تعصب کی نظر ہو کر اکثر منفی ہی رہا حالانکہ جنرل ضیاء کے اچھے کاموں کی فہرست اتنی کم بھی نہیں۔
جنرل ضیاء شہید کے کچھ اقدام ہمیشہ متنازع اورقابل تنقید رہے گے جن میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، طلباء یونین پر پابندی ، اپنے مخالفین کو کوڑوں کی سزائیں، سیاسی جماعتوں کے ساتھ الیکشن کروانے کی وعدہ خلافی ، ایم کیوایم جیسے فتنے کی بنیاد رکھنا اوراسلامی نفاذ کے سنجیدہ مطالبے کو بے توقیر کر دینا شامل ہیں اور دوسری طرف کچھ ایسے اقدامات بھی ہیں جو ہمیشہ قابل تعریف بلکہ ضیاء شہید کااعزاز رہے گے جن میں بھٹو کے دور کے مغربی اور بےہودہ کلچر کو ختم کرنا، نصاب تعلیم کو نظریاتی بنیادوں پر استوار کرنا، ٹیلی ویژن کی مادر پدر آزادی کو مشرقی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، مشرقی لباس کو اولین حیثیت دینا، آئین میں اسلامی شقوں کا اضافہ کرنا، نماز اور زکوٰۃ کے نظام کو کافی حد تک رائج کرنا اور سب سے اہم پاک فوج کی سامراجی روایات اور معیارات کو ختم کرکے باقائدہ ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ جیسے ماٹو کے تابع کر دیا،انڈیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ڈٹ جانے کی ہمت رکھنا، ایٹمی بم بنانے کے عمل میں سنجیدہ پیشرفت کرنا مگر جو کردار جہاد افغانستان میں ادا کیا اور کیمونزم کے سرخوں کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا وہ اسلامی تاریخ کا ہمیشہ روشن باب رہے گا۔
بہرحال ضیاءالحق اپنے تمام تر تضادات کے ساتھ ہمیشہ سب کے دلوں میں زندہ رہے گے خواہ نفرت کے سبب یا محبت کے سبب۔ آج 17 اگست یوم شہادت پر ہم ضیاءالحق شہید کے درجات کی بلندی کے لیئے دعاگو ہیں۔
(شہزاداسلم مرزا)

"عوام اپنی حقیقی طاقت کو پہچانیں"

0 تبصرے

"عوام اپنی حقیقی طاقت کو پہچانیں"

سنا ہے چڑیا گھر والےہاتھی کا ایک پاؤں زنجیر کے ساتھ بچپن میں ہی باندھ دیتے ہیں اس وقت اس زنجیر سے پاؤں چھڑانا ہاتھی کے بچے کے بس میں نہیں ہوتا اور آہستہ آہستہ اسے یقین ہونے لگتا ہے کہ اس زنجیر غلامی کو وہ کبھی توڑ نہیں سکتا حتیٰ کہ وہ ہاتھی جوان اور دیو ہیکل بن جاتا ہے اب اس کی طاقت کے سامنے مضبوط سنگل کی بھی کوئی حیثیت نہیں ، زرا سا پاؤں کاجھٹکے سے وہ آزاد ہو سکتا ہے مگر پھر بھی وہ ساری عمر اس معمولی زنجیر کے سہارے غلام بنا کھڑا رہتا ہے ۔۔ کیوں؟؟ ۔۔۔ کیو نکہ وہ اپنی حقیقی طاقت سے آشنا ہوئے بغیر بچپن سے ہی ذہنی طور پر یہ تسلیم کر چکا ہوتا ہے کہ وہ کبھی زنجیر توڑ کر آزاد نہیں ہو سکتا اور اب اس کا مقدر یہی غلامی ہے۔
ہماری عوام کا ہی کچھ ایسا ہی حال ہے۔بچپن سے ہی ان کےپاؤں میں جہالت، غربت، پیری مریدی، جاگیر داری اور وڈیرہ شاہی کی زنجیریں ڈال کر انہیں غلامی کی ایسی دلدل میں اتار دیا جاتا ہے جس میں وہ تاعمر پھنسے رہتے ہیں اور انہیں یہ شعور ہی نہیں ہونے دیا جاتا کہ ان کے حقوق کیا ہیں اور وہ کتنے طاقتور ہیں، یہ حکمران جو اپنی تمام تر طاقت اور جاہ و جلال کے ساتھ ان پر مسلط ہیں انہی کے ووٹ کی بدولت ہے ۔انہیں یہ شعور ہی نہیں کہ ان کے ہاتھ ووٹ کی پرچی ان کی غلامی کو مستحکم بھی کر سکتی ہے اور مکمل آزادی کا پروانہ بھی بن سکتی ہے۔ بس انہیں متحد ہو کر اپنی حقیقی طاقت کو پہچاننا ہو گا۔
(شہزاداسلم مرزا)

جمعرات، 6 اگست، 2015

"طاقت ور کی دنیا"

0 تبصرے


"طاقت ور کی دنیا"

اخلاقیات کا تقاضا تو یہ ہے کہ جوں جوں طاقت حاصل ہوتی جائے ذمہ داری کااحساس،   قربانی کا جزبہ اور قوانین کی پاسداری  بڑھ جائے مگر اس مادی دنیا کے شائد تقاضے اس سے بالکل مختلف ہوتے ہیں یہاں طاقتور  ن اپنے آپ کو نہ صرف قانون اور ذمہ داری سے بالاتر  سمجھنے لگتا ہے بلکہ خود قانون بن کر دوسروں کی عزت و آبرو اور جان و مال کا مالک بلکہ خدا بن جاتا ہے،
امریکہ   تقریبا ایک صدی سے اپنی مادی اور علمی ترقی کی بدولت دنیا کا طاقتور ترین ملک شمار کیا جاتا ہے بلکہ اب تو اسے سپرپاور کا خطاب بھی حاصل ہے مگر اس طاقت کے ساتھ جو اخلاقی ذمہ داریاں اس پر عائد ہوتی تھیں اس کے برعکس اس نے باقی دنیا کو اپنی سوچ، نظریے، تصورات اور مقاصد کے تابع کرنے کے اقدامات شروع کر دیئے اور ان مقاصد کے حصول کے لیئے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کا خون بہاتا چلا گیا، بستیاں برباد اور قبرستان آباد کرتا چلتا گیا مطلب جس کے بھی مستقبل میں اسے اپنا 
مستقبل خطرے میں محسوس ہوا اس نے اسے تباہ برباد کر کے رکھ دیا اگر یہ کہا جائے کہ امریکہ کا تحت انسانی خون کے سمندر پر تیر رہا ہے تو یہ بالکل غلط نہیں ہو گا۔ 
6 دسمبر 1945 کا بدقسمت دن جب امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر دو ایٹم بم گرا کر چند لمحوں میں ہنستی کھیلتی آبادی کو اس انداز میں  کوئلوں کا شہر بنا دیا کہ لاکھوں لوگوں کے شہر کی بربادی پر ایک بھی رونے والا نہ بچا۔تاریخ انسانی نے شائد ہی اتنا بڑا ظلم کبھی دیکھا ہو۔  پر مزید افسوس یہ ہے کہ 6 دسمبر سے شروع ہونے والا امریکہ کا یہ خونی کھیل ابھی رکا نہیں بلکہ عراق، افغانستان اور فلسطین     سے ہوتا ہوا  کسی اور آباد بستی کا متلاشی ہو گا۔
6 دسمبر کے دن کا اہم ترین پیغام یہی ہے کہ اگر اس دنیا کے جنگل میں زندہ رہنا ہے تو اپنے آپ کو کم از کم اتنا مضبوط ضرور کر لو کہ خونی درندوں کی درندگی سے اپنےآپ کو محفوظ رکھ سکو اور یہ مضبوطی اور طاقت علم کے ساتھ ساتھ معاشی اور عسکری میدان میں ترقی سے ممکن ہے۔ 
خدا کا شکر یہ پاکستان  ایٹمی طاقت کا حامل  ہے اس طاقت کے ساتھ ساتھ اگر پاکستان معاشی اور علمی میدان میں بھی طاقتور بن جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکے گی۔ ان شاءاللہ
(شہزاداسلم مرزا)