بدھ، 22 جولائی، 2015

بےچارہ پاکستان

0 تبصرے


عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ جب کسی فیملی کے سر سے سربراہ کا سایہ اٹھ جاتا ہے اور وہ بے سہارا اور بے وزن ہوجاتی ہے تو اس فیملی کے مستقبل کے فیصلے گلی، محلے، چوراہوں یا کسی وڈیرے کے ڈیرے پر ہونے لگتے ہیں ۔ اور ان کی جان ، مال ،عزت وآبرو کی حرمت کی قیمت وہی طے پاتی ہے جو ان بڑوں کے ڈیروں پر ان کے مخصوص مقاصد سے مشروط ہو الہ یہ کہ اسی فیملی میں سے کوئی غیرت مند اور خودار فرد اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے فیصلوں کا اختیاز فیملی سے باہر جانے ہی نہ دے۔
بدقسمتی سے پاکستان کا بھی اس وقت حال اس بے سہارا فیملی جیسا ہی ہے جب سے بانیان پاکستان اس دنیا سے رخصت ہوئے پاکستان بھی بے آسرا اور بے وزن ہو چکا ہے اور اس کو بھی ایسے غیرت مند لیڈرز و رہنما میسر ہی نہیں آئے جو اس ملک کی تقدیر کے فیصلے اسی ملک میں اور ملک کے مفاد میں کر سکیں۔
اور پھر نتیجہ بھی یہی نکلا کہ اس ملک کی تقدیر کے فیصلے اس دنیا کے وڈیروں نے اپنے ہاتھ لے لیئےجنہوں نے اپنے مخصوص ایجنڈوں اور مقاصد کے تحت پاکستان کو چلنے پر مجبور کر دیا گیا۔
ان مفاد پرست وڈیروں نے پاکستان کے آغاز پر ہی معاشی مشکلات سے نکلنے کے لیئے حکمرانوں کو IMF کی چوکھٹ پر ایسا سجدہ ریز کروایا کہ ملک معاشی خودمختاری کے تصور کو ہی بھول گیا اور آج تک نہ صرف معاشی بلکہ تعلیمی پالیسی بھی IMF کی مرضی و منشا کے مطابق بنانے پر مجبور دیکھائی دیتا ہے۔
کبھی دنیا کے وڈیروں نے پاکستان انڈیا کے درمیان پانی کا مسئلہ حل کروانے کے لیئے سندھ طاس معائدہ کروایا جس کی عملی تعبیر یہ نکلی کہ پنجاب 5 دریاؤں کی سرزمین اپنے تقریبا 3 دریاؤں سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے اور پاکستان کی زراعت تباہی سے دوچار ہے وہ معائدہ نہیں بلکہ پاکستان کے دریاؤں کی بندربانٹ ثابت ہوا۔
اسی طرح اپنوں کی نااہلیت اور دنیا کے چوہدریوں کی چالبازیوں اور یقین دہانیوں پر اعتبار کی قیمت پاکستان کو مقبوضہ کشمیر کی طرح مشرقی پاکستان سے ہاتھ دھو کر چکانا پڑی۔
جب کبھی دنیا روس کے دانت توڑنے کا فیصلہ کرتی ہے تو سب کی نظریں پاکستان کو تلاشنا شروع کر دیتی ہیں اور ہمارے حکمران سوچے سمجھے اور باقائدہ کوئی معائدہ کیئے بغیر اس جنگ میں کود پڑتے ہیں حالانکہ پاکستان کی دینی و سیاسی جماعتیں اسے اسلامی و نظریاتی سطح پر جہاد سمجھ کر مقابلہ کرنے کا بالکل ٹھیک فیصلہ کرتی ہیں مگر انہیں کیا پتا حکمرانوں کی سطح پر اس جنگ مطمع نظر محض ڈالرز تھے نہ کہ نظریاتی اشو۔
امریکہ اور سعودی عرب نے پہلے دنیا بھر سے مجاہدین تیار کرکے پاکستان کے ذریعے افغانستان بھجوائے اور جب مجاہدین کی ایک کھیپ تیار ہو گئی اور مقاصد حاصل ہو گئے تو انہیں ممالک سے نیا حکم ملا کہ اب ان مجاہدین کو دہشتگرد ڈیکلئر کرو تو ایک ہی کال پر خوفزدہ حکمران نے یوٹرن لیا اور حکم کی تعمیل کر دی ان منافقانہ اور تضادات سے بھرپور پالیسیوں کی پیروی نے پاکستان کو ایک ایسی دلدل میں پھنسا دیا کہ 70 ہزار کے قریب پاکستانیوں کی قربانیوں کے بعد بھی نجات کی کوئی راہ نظر نہیں آ رہی۔
افسوس یہ ہے کہ معاملہ اسی پر ختم نہیں ہوا بلکہ پاکستانی حکمرانوں نے بھی اسی وطیرے کو اپنا لیا اور ملک کے پولیٹیکل فیصلے بھی بیرون ملک بیٹھ کر ہونے لگے۔ کبھی ہم نے APDM کا اجلاس نوازشریف کی قیادت میں برطانیہ میں ہوتے دیکھا جس کے بطن سے Charter of Democracy for Pakistan جیسے معائدے نے جنم لیا اور پھر پرویز مشرف اور بےنظیر کے درمیان خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی امریکہ کی سرپرستی میں بیرون ملک دبئی میں شروع ہوا جس کا نتیجہ بدنامےزمانہ NRO کی شکل میں سامنے آیا جس کی بدولت سے ایک کرپٹ، بدکردار اور قاتل زرداری پاکستان کا صدر قرار پایا۔
اور اب بھی جب دہشتگردی اور کرپشن کے خلاف پوری قوم متحد ہوتی دیکھائی دے رہی ہے اور بےشمار دہشتگردوں کے خلاف اقدام کے بعد معاشی دہشتگردوں پر ہاتھ ڈالا گیا ہے تو پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کی قیادت ملک سے مفرور ہو گئی ہے اور سندھ اور کراچی کی تقدیر کے فیصلے دوبارہ دبئی اور برطانیہ میں ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں مگر سوال یہ ہےکہ ایسا کب تک چلے گا ؟
کیا وہ وقت آ نہیں گیا کہ ہم بحیثیت مجموعی قوم ذلت ، بےغیرتی اور غلاموں کی طرح بیرون ممالک اور ان کے کارندوں کے فیصلے قبول کرنے کی بجائے ایک باعزت ، غیرت مند اور آزاد قوم کی طرح اپنی تقدیروں کے فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لیں جس کا آسان ترین راستہ نڈر، بےخوف، کرپشن سے پاک اور وژنری قیات کا انتخاب ہے تاکہ ہم پاکستانی بھی سربلند کر کے ایک آزاد، خودمختار اور غیرت مند قوم کے طور پر دنیا کا سامنا کرسکیں۔ ذراسوچو
(شہزاداسلم مرزا)

منگل، 21 جولائی، 2015

پاکستانی ٹی وی چینلز

0 تبصرے
پاکستانی ٹی وی چینلز

مختلف ٹی وی چینلز کے پروگرامات کی جھلک دیکھنے کے بعد یہ احساس مزید نمایاں ہوا کہ بے مقصدیت، بے سمتی، چھچھور پن، لچرپن، غیر معیاری اور سطحی گفتگو کے اصل مراکز ہمارے چینلز ہی ہیں۔لباس ایسا کہ بے لباسی واضح محسوس ہو، گانوں کے نام پر بے ہودگی، کامیڈی کے نام جگتیں، ڈرامے کے نام مغربی قدریں اور سلیبرٹیز کی گپ شپ کے نام پر فضولیات یعنی پرفارمنگ آرٹ کی ہر صنف انتہائی تنزلی کا رونا رہ ہی تھی۔
پوری دنیا میں میڈیا سے علم و آگاہی کا کام لیا جاتا ہےمگر کیا کبھی  پاکستانی چینلز پر یہ دیکھنے کو ملا کہ  بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے کوئی پروگرمات کیئے جا رہے ہوں، نوجوانوں کے سامنے اخلاقی اقدار کو اس انداز میں پیش  کیا جا رہا ہو کہ   وہ اس کو اپنانے پر مائل ہو جائیں ۔ یا نوجوان نسل کے لیئے کیریئر پلاننگ کے حوالے سے لیکچرز کا اہتمام کیا جا رہا ہو ۔۔ کبھی نہیں ۔۔ کیونکہ  کمرشلزم کے اس دور میں میڈیا کی اولین ترجیح پیسہ بن چکا ہے کہ بس کسی طرح اسے ذیادہ سے ذیادہ کھینچ لیا جائے خواہ اس کے لیئے کسی بھی پستی میں ہی کیوں نہ گرنا پڑ جائے  اور  دولت  ہے ملٹی نیشنل کمپنیز کے پاس  جو اپنے مخصوص ایجنڈوں اور مقاصد کو مشروط کر کے پیسے کا حصول ممکن بنواتی ہیں۔ اور ایسی دولت سے چند افراد کا خزانہ تو بھر جاتا ہے مگر ملکی معیشت اور نظام مملکت میں اس کے کوئی مثبت اثرات مرتب نہیں ہوتے۔
ہمارا میڈیا قوم کی اسلام اور تہذیبی اساس کے مطابق تربیت اور آگاہی کا کام تو کیا کرتا اس نے بچی کچی اقدار کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔ آج کل ہمارے ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کی بہت باتیں ہو رہی ہیں کاش ہماری سیاسی و دینی جماعتیں میڈیا پر روزانہ ہونے والی آئین کی اس پامالی پر بھی آواز اٹھائیں کیونکہ آئین کی رو سے ملک کے تمام ادارے قرآن و سنت کے تابع کام کرنے کے پابند ہیں۔
(شہزاداسلم مرزا)

پڑھتا جا شرماتا جا

0 تبصرے
"پڑھتا جا شرماتا جا"
سنا ہے انڈین آرمی نے عید کے دن لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف جاسوسی ڈرون پاکستان بھیجا بلکہ بارڈر ایریا پر شدید گولہ باری اور فائرنگ سے 8 پاکستانی بھی شہید کر دیئے اور دوسری طرف آبی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر اطلاع دریاؤں میں پانی چھوڑ دیا جس سے پنجاب کے سینکڑوں گاؤں سیلاب کی نظر ہو گئے اور کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں،
مگر دفعہ کرو جی ان چھوٹی چھوٹی خبروں کو کیونکہ پاکستانی تو آئے روز مرتے ہی رہتے ہیں اور سیلاب تو ہر سال تباہی پھیلاتا ہیہے اصل اور رنگین خبر تو یہ ہے انڈین فلم "بجرنگی بھائی" پاکستانی سینماؤں کی زینت بنی ہوئی ہے ،اس بات کے باوجودکہ اس فلم کے ڈائریکٹر نے واضح انداز میں یہ لکھا ہے کہ یہ فلم ISI کی جموں کشمیر میں منفی حرکات کو اجاگر کرنے کے لیئے بنائی گئی ہے یہ فلم پورے پاکستان میں خوب بزنس کر رہی ہے ویسے بھی جب معروف سنگر اور پاکستان فلم سنسربورڈ کے چئرمین فخرعالم نے اسے اجازت نامہ دے دیا ہے اور پاک فوج اور آئی ایس آئی بھی خاموش ہے تو اعتراض کرنے والوں کی اوقات ہی کیا ہے؟ پاکستانی عوام اس فلم کو انڈیا کی طرف سے عید کا بہترین تحفہ قرار دے رہے ہیں۔
"سچ کہا تھا اندراگاندھی نے کہ ہم نے پاکستان کو ثقافتی میدان میں بدترین شکست سے دوچارکردیاہے"
٭واقعی:کچھ شرم ہونی چاہئے، کچھ حیاء ہونی چاہئے
(شہزاداسلم مرزا)