پاکستانی ٹی وی چینلز
مختلف ٹی وی چینلز کے پروگرامات کی جھلک دیکھنے کے بعد یہ احساس مزید نمایاں ہوا کہ بے مقصدیت، بے سمتی، چھچھور پن، لچرپن، غیر معیاری اور سطحی گفتگو کے اصل مراکز ہمارے چینلز ہی ہیں۔لباس ایسا کہ بے لباسی واضح محسوس ہو، گانوں کے نام پر بے ہودگی، کامیڈی کے نام جگتیں، ڈرامے کے نام مغربی قدریں اور سلیبرٹیز کی گپ شپ کے نام پر فضولیات یعنی پرفارمنگ آرٹ کی ہر صنف انتہائی تنزلی کا رونا رہ ہی تھی۔
پوری دنیا میں میڈیا سے علم و آگاہی کا کام لیا جاتا ہےمگر کیا کبھی پاکستانی چینلز پر یہ دیکھنے کو ملا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے کوئی پروگرمات کیئے جا رہے ہوں، نوجوانوں کے سامنے اخلاقی اقدار کو اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہو کہ وہ اس کو اپنانے پر مائل ہو جائیں ۔ یا نوجوان نسل کے لیئے کیریئر پلاننگ کے حوالے سے لیکچرز کا اہتمام کیا جا رہا ہو ۔۔ کبھی نہیں ۔۔ کیونکہ کمرشلزم کے اس دور میں میڈیا کی اولین ترجیح پیسہ بن چکا ہے کہ بس کسی طرح اسے ذیادہ سے ذیادہ کھینچ لیا جائے خواہ اس کے لیئے کسی بھی پستی میں ہی کیوں نہ گرنا پڑ جائے اور دولت ہے ملٹی نیشنل کمپنیز کے پاس جو اپنے مخصوص ایجنڈوں اور مقاصد کو مشروط کر کے پیسے کا حصول ممکن بنواتی ہیں۔ اور ایسی دولت سے چند افراد کا خزانہ تو بھر جاتا ہے مگر ملکی معیشت اور نظام مملکت میں اس کے کوئی مثبت اثرات مرتب نہیں ہوتے۔
ہمارا میڈیا قوم کی اسلام اور تہذیبی اساس کے مطابق تربیت اور آگاہی کا کام تو کیا کرتا اس نے بچی کچی اقدار کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔ آج کل ہمارے ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کی بہت باتیں ہو رہی ہیں کاش ہماری سیاسی و دینی جماعتیں میڈیا پر روزانہ ہونے والی آئین کی اس پامالی پر بھی آواز اٹھائیں کیونکہ آئین کی رو سے ملک کے تمام ادارے قرآن و سنت کے تابع کام کرنے کے پابند ہیں۔(شہزاداسلم مرزا)











0 تبصرے:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔