جمعرات، 6 اگست، 2015

"طاقت ور کی دنیا"

0 تبصرے


"طاقت ور کی دنیا"

اخلاقیات کا تقاضا تو یہ ہے کہ جوں جوں طاقت حاصل ہوتی جائے ذمہ داری کااحساس،   قربانی کا جزبہ اور قوانین کی پاسداری  بڑھ جائے مگر اس مادی دنیا کے شائد تقاضے اس سے بالکل مختلف ہوتے ہیں یہاں طاقتور  ن اپنے آپ کو نہ صرف قانون اور ذمہ داری سے بالاتر  سمجھنے لگتا ہے بلکہ خود قانون بن کر دوسروں کی عزت و آبرو اور جان و مال کا مالک بلکہ خدا بن جاتا ہے،
امریکہ   تقریبا ایک صدی سے اپنی مادی اور علمی ترقی کی بدولت دنیا کا طاقتور ترین ملک شمار کیا جاتا ہے بلکہ اب تو اسے سپرپاور کا خطاب بھی حاصل ہے مگر اس طاقت کے ساتھ جو اخلاقی ذمہ داریاں اس پر عائد ہوتی تھیں اس کے برعکس اس نے باقی دنیا کو اپنی سوچ، نظریے، تصورات اور مقاصد کے تابع کرنے کے اقدامات شروع کر دیئے اور ان مقاصد کے حصول کے لیئے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کا خون بہاتا چلا گیا، بستیاں برباد اور قبرستان آباد کرتا چلتا گیا مطلب جس کے بھی مستقبل میں اسے اپنا 
مستقبل خطرے میں محسوس ہوا اس نے اسے تباہ برباد کر کے رکھ دیا اگر یہ کہا جائے کہ امریکہ کا تحت انسانی خون کے سمندر پر تیر رہا ہے تو یہ بالکل غلط نہیں ہو گا۔ 
6 دسمبر 1945 کا بدقسمت دن جب امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر دو ایٹم بم گرا کر چند لمحوں میں ہنستی کھیلتی آبادی کو اس انداز میں  کوئلوں کا شہر بنا دیا کہ لاکھوں لوگوں کے شہر کی بربادی پر ایک بھی رونے والا نہ بچا۔تاریخ انسانی نے شائد ہی اتنا بڑا ظلم کبھی دیکھا ہو۔  پر مزید افسوس یہ ہے کہ 6 دسمبر سے شروع ہونے والا امریکہ کا یہ خونی کھیل ابھی رکا نہیں بلکہ عراق، افغانستان اور فلسطین     سے ہوتا ہوا  کسی اور آباد بستی کا متلاشی ہو گا۔
6 دسمبر کے دن کا اہم ترین پیغام یہی ہے کہ اگر اس دنیا کے جنگل میں زندہ رہنا ہے تو اپنے آپ کو کم از کم اتنا مضبوط ضرور کر لو کہ خونی درندوں کی درندگی سے اپنےآپ کو محفوظ رکھ سکو اور یہ مضبوطی اور طاقت علم کے ساتھ ساتھ معاشی اور عسکری میدان میں ترقی سے ممکن ہے۔ 
خدا کا شکر یہ پاکستان  ایٹمی طاقت کا حامل  ہے اس طاقت کے ساتھ ساتھ اگر پاکستان معاشی اور علمی میدان میں بھی طاقتور بن جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکے گی۔ ان شاءاللہ
(شہزاداسلم مرزا)

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔