"عوام اپنی حقیقی طاقت کو پہچانیں"
سنا ہے چڑیا گھر والےہاتھی کا ایک پاؤں زنجیر کے ساتھ بچپن میں ہی باندھ دیتے ہیں اس وقت اس زنجیر سے پاؤں چھڑانا ہاتھی کے بچے کے بس میں نہیں ہوتا اور آہستہ آہستہ اسے یقین ہونے لگتا ہے کہ اس زنجیر غلامی کو وہ کبھی توڑ نہیں سکتا حتیٰ کہ وہ ہاتھی جوان اور دیو ہیکل بن جاتا ہے اب اس کی طاقت کے سامنے مضبوط سنگل کی بھی کوئی حیثیت نہیں ، زرا سا پاؤں کاجھٹکے سے وہ آزاد ہو سکتا ہے مگر پھر بھی وہ ساری عمر اس معمولی زنجیر کے سہارے غلام بنا کھڑا رہتا ہے ۔۔ کیوں؟؟ ۔۔۔ کیو نکہ وہ اپنی حقیقی طاقت سے آشنا ہوئے بغیر بچپن سے ہی ذہنی طور پر یہ تسلیم کر چکا ہوتا ہے کہ وہ کبھی زنجیر توڑ کر آزاد نہیں ہو سکتا اور اب اس کا مقدر یہی غلامی ہے۔
ہماری عوام کا ہی کچھ ایسا ہی حال ہے۔بچپن سے ہی ان کےپاؤں میں جہالت، غربت، پیری مریدی، جاگیر داری اور وڈیرہ شاہی کی زنجیریں ڈال کر انہیں غلامی کی ایسی دلدل میں اتار دیا جاتا ہے جس میں وہ تاعمر پھنسے رہتے ہیں اور انہیں یہ شعور ہی نہیں ہونے دیا جاتا کہ ان کے حقوق کیا ہیں اور وہ کتنے طاقتور ہیں، یہ حکمران جو اپنی تمام تر طاقت اور جاہ و جلال کے ساتھ ان پر مسلط ہیں انہی کے ووٹ کی بدولت ہے ۔انہیں یہ شعور ہی نہیں کہ ان کے ہاتھ ووٹ کی پرچی ان کی غلامی کو مستحکم بھی کر سکتی ہے اور مکمل آزادی کا پروانہ بھی بن سکتی ہے۔ بس انہیں متحد ہو کر اپنی حقیقی طاقت کو پہچاننا ہو گا۔
(شہزاداسلم مرزا)











0 تبصرے:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔