"یہ کیسا انتخابی نظام ہے؟"
شہزاداسلم مرزا
پچھلے الیکشن کے انعقاد کو تقریبا 3 سال ہونے والے ہیں مگر مختلف حلقوں پر بےشمار اعتراضات اور شکایتیں پر ابھی تک الیکشن ٹربیونل اور عدلیہ فیصلے نہیں کر پائی۔ اور اگر کسی حلقے کے متعلق فیصلہ ہو بھی جائے تو عدالت عظمیٰ سٹے آرڈرکی چھتری تلے باقی 2 سال بھی باآسانی گزارے جا سکتےہیں۔ بے شمار مقبول حلقوں اور لیڈرز کے سٹے آرڈرز کے متعلق تو سب جانتے ہیں مگر کراچی کی صوبائی سیٹ پر کھلی دھاندلی ثابت ہو جانے کے باوجود سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے حق میں سٹے آرڈر دے کر جماعت اسلامی کے عبدالرزاق خلجی کو اسمبلی سے باہر بیٹھا رکھا ہے۔
آخر پوری حکومتی مشینری، الیکشن کمیشن اور عدلیہ کی یہ بدترین ناکامی نہیں کہ عمران خان کو 4 حلقوں پر انصاف حاصل کرنےکے لیئے 3 سال عوامی جدوجہد اور کروڑوں روپے خرچ کرنا پڑے۔ آخر ان 3 سالوں میں دھاندلی سے جیتے ایم این ایز اور ایم پی ایز کی طرف سے کی گئی قانون سازی اور حاصل کردہ مراعات کے متعلق کون جواب دے گا؟
لیکن کیا ان چند حلقوں کے نتائج کالعدم قرار دلوا کر ضمنی الیکشن کروا دینا ہی اصل کامیابی ہے؟
نہیں؟ بالکل نہیں؟ ۔۔۔ اس انتخابی اور عدالتی نطام کے ہوتے ہوئے کسی بڑی تبدیلی کے خواب دیکھنا بیوقوفی سے کم نہیں۔ واقعی اگرحقیقی تبدیلی لانی ہے تو اس ناکام نظام کے خلاف قدر مشترکہ مقاصد کی حامل جماعتوں کو یک نکاتی ایجنڈے پر جدوجہد کرنا ہو گی تاکہ جدید تقاضوں کےمطابق الیکشن ریفارمز عمل میں لائی جا سکیں ورنہ یہی دھاندلی، یہی رونا ، یہی دھرنا، یہی ٹربیونل ، یہی عدلیہ اور یہی انتظار ۔
frown emoticon(شہزاداسلم مرزا)











0 تبصرے:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔