بدھ، 19 اگست، 2015

0 تبصرے
"درندگی کا حد سے گزرنا دیکھو"
قصور میں ایک گروہ کاانکشاف ہوا ہے جو تقریبا 287 بچوں کو جسمانی درندگی کا نشانہ بنا چکا ہے اور ان جانوروں کی دیدہ دلیری کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ انہوں نے شائد بلیک میلنگ کی خاطر باقائدہ ان بدفعلیوں کی ویڈیوز بھی بنارکھی ہیں اور اس اذیتناک واقعے کا تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس درندہ صفت گروہ کو مسلم لیگ ن کے ایم پی اے ملک سعید اور دیگر حکومتی ذمہ داران سرپرستی حاصل ہے۔
ذرا سوچو ۔۔ ہمارے معاشرے کی اخلاقی تنزلی کن حدوں کو چھو رہی ہے اب بچا کیا ہے ؟ کون سا جرم ہے جس کی داستانیں زبان زدعام نہیں، کون سا گناہ ہے جو ہونا باقی رہ گیا ہے، زندہ خواتین کی مظلومیت تو ایک طرف یہاں تو مردہ خواتین کو قبروں میں بھی نہیں چھوڑا گیا اور اب یہ معصوم بچے معصوم پھول جن سے ایک لمحے میں ان کی معصومیت چھین لی گئی ،جنگلوں کے جانور بھی بچوں کی حرمت سے آگاہ ہیں مگر انسانوں کا جنگل اس حرمت کو بھی پامال کر گیا۔
کون ہے اصل قصوروار ؟ یقینا وہ حکمران بھی جن کو عوام اپنی جان مال کی حفاظت کے لیئے منتخب کرتے ہے اور وہ عوام بھی جو ان بےغیرت درندوں کو قیمتی ووٹ ڈال کر اپنا مستقبل غیر محفوظ بنا لیتے ہیں۔
کیا اب بھی کوئی یہ سوال پوچھے گا کہ ۔۔۔
ہمارے ملک میں آفتیں کیوں آتی ہیں اور ہمارا ملک آزمائش سے کیوں دوچار رہتا ہے؟
‫#‏شرمناک‬
(شہزاداسلم مرزا)

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔