پیر، 9 نومبر، 2015

0 تبصرے
"علامہ اقبالؒ اور آج کا نوجوان"
حضرت علامہ اقبالؒ ان عظیم افراد میں شامل ہیں جو صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور صدیوں تک اپنے اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کی سوچ اور فکر کسی کم ظرف حکمران کی تائید کی ہر گز محتاج نہیں ہے مگر میرا تو سارا احتجاج ان نوجوانوں کے رویوں پر ہے جن کی زندگیوں کو باعزت ، باکردار اور بامقصد بنانے کے لئے علامہ نے تقریبا سارا کلام لکھا۔ 
علامہ اقبالؒ نے خودی کا سبق دیا تو آج کے نوجوانوں نے "سیلفی" کو ہی خودی کا مطلب سمجھ لیا، علامہ نے مغربی تہذیب سے دور رہنے کی تلقین کی مگر مغربی تہذیب ہی ہمارے نوجوان کے لئے رول ماڈل بن گئی ، علامہ نے نوجوانوں کو شاہین سے تعبیر کرکے اعلیٰ صفات کا حامل بننے کے لئے ابھارامگر نوجوانوں نے شارٹ کٹ، رشوت اور ترک وطن کو ہی بہترین صفت سمجھ لیا، علامہ نے اسلامی نظریہ کو نظام کی بنیاد قرار دیا مگر قوم کے نوجوانوں نے سیکولرزم اور آزادخیالی کو بطور نظام پسند کر لیا، علامہ نے ملوکیت کو خطرناک قرار دیا نوجوانوں نےشخصیت پرستی کو ہی قبول کر لیا ، بالوں کی بےڈھنگی کٹنگ، کانوں میں بالی ، گلے میں ہار ، تنگ پتلونے پہنے اور چوکوں چوراہوں پر کھڑے نوجوان کیا واقعی کبھی علامہ اقبالؒ کے شاہین بن سکتے ہیں؟۔ نوجوان اگر حقیقت میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے خود کو بدل اقبال کی سوچ کے مطابق بنانا ہو گی کیونکہ ۔ ۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
(شہزاداسلم مرزا)

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔