بدھ، 19 اگست، 2015

0 تبصرے
"17 اگست جنرل ضیاءالحق شہید کی برسی"
ہر انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے اس دائمی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے افراد کے متعلق تجزیہ اعتدال اور انصاف کا تقاضا کرتا ہے کہ تعصب کے بغیر اچھے کام کی تعریف اور غلط عمل پر تنقید ہو مگر بدقسمتی سے جنرل ضیاء الحق شہید کے متعلق بحیثیت مجموعی تجزیہ بدترین تعصب کی نظر ہو کر اکثر منفی ہی رہا حالانکہ جنرل ضیاء کے اچھے کاموں کی فہرست اتنی کم بھی نہیں۔
جنرل ضیاء شہید کے کچھ اقدام ہمیشہ متنازع اورقابل تنقید رہے گے جن میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، طلباء یونین پر پابندی ، اپنے مخالفین کو کوڑوں کی سزائیں، سیاسی جماعتوں کے ساتھ الیکشن کروانے کی وعدہ خلافی ، ایم کیوایم جیسے فتنے کی بنیاد رکھنا اوراسلامی نفاذ کے سنجیدہ مطالبے کو بے توقیر کر دینا شامل ہیں اور دوسری طرف کچھ ایسے اقدامات بھی ہیں جو ہمیشہ قابل تعریف بلکہ ضیاء شہید کااعزاز رہے گے جن میں بھٹو کے دور کے مغربی اور بےہودہ کلچر کو ختم کرنا، نصاب تعلیم کو نظریاتی بنیادوں پر استوار کرنا، ٹیلی ویژن کی مادر پدر آزادی کو مشرقی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، مشرقی لباس کو اولین حیثیت دینا، آئین میں اسلامی شقوں کا اضافہ کرنا، نماز اور زکوٰۃ کے نظام کو کافی حد تک رائج کرنا اور سب سے اہم پاک فوج کی سامراجی روایات اور معیارات کو ختم کرکے باقائدہ ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ جیسے ماٹو کے تابع کر دیا،انڈیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ڈٹ جانے کی ہمت رکھنا، ایٹمی بم بنانے کے عمل میں سنجیدہ پیشرفت کرنا مگر جو کردار جہاد افغانستان میں ادا کیا اور کیمونزم کے سرخوں کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا وہ اسلامی تاریخ کا ہمیشہ روشن باب رہے گا۔
بہرحال ضیاءالحق اپنے تمام تر تضادات کے ساتھ ہمیشہ سب کے دلوں میں زندہ رہے گے خواہ نفرت کے سبب یا محبت کے سبب۔ آج 17 اگست یوم شہادت پر ہم ضیاءالحق شہید کے درجات کی بلندی کے لیئے دعاگو ہیں۔
(شہزاداسلم مرزا)

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔