"جنرل ریٹائرڈ حمید گل بھی رخصت ہو گئے ..1936 تا 2015"
اناللہ واناالیہ راجعون
حمید گل صاحب سے پہلا تعارف سکول کے زمانے میں اسلامی جمیعت طلبہ کے کسی اجتماع سے ہوا۔ ان کا لیکچر سننے کے بعد بس ذہن پر ایک ہی سوال تھا کہ یہ کون ہے؟ جس کی ساری گفتگو اسلام اور پاکستان کی محبت سے سرشار تھی جنہیں آسان لہجے اور دلیل سے موقف بیان کرنے میں ملکہ حاصل تھا۔
تب پتا چل یہ وہ شخص ہے جس کی تبدبیر اور حکمت عملی نے سرخ آندھیوں کو بے وزن کر دیا
جس کی پلاننگ نے سوویت یونین کو زخم چاٹنے پر مجبور کر دیا
جس کی پشت پناہی نے افغانستان کو سوویت یونین کا قبرستان بنا دیا
جس نے کشمیریوں میں آزادی کی نئی رخ پھونک کر انڈیا کو ہلقان کر دیا
جس نے جہاد افغانستان میں الجھے پاکستان کو انڈیا کی مکاری سے بچانے کے لیئے خالصتان تحریک کارنامہ انجام دیا
جس نے انڈیا کی براس ٹیک فوجی ایکسرسائز کا منہ توڑ جواب ضرب مومن کی شکل میں دیا
جس کے زرخیر دماغ نے ISI کو دنیا کی ٹاپ ترین ایجنسیز کی فہرست میں لا کھڑا کیا کہ اب جس کا نام بھی انڈیا، امریکہ اور اسرائیل کے ایوانوں لرزا طاری کر دیتا ہے۔
ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیئے جس سیاسی حکمت عملی کے وہ قائل تھے اس طریقہ کار سے اختلاف تو یقینا کیا جا سکتا تھا مگر اسلامی نظام سے ان کی کمٹمنٹ کو کسی انداز میں بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ اسی جہادی اور نظریاتی فکر کی بدولت حمید گل صاحب "دل یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے بھی رہے"
امریکہ، انڈیا، سیکولرز، ملحد، بےنظیر اور دیگر اسلام بیزاروں کو جب بھی ان کے خلاف زہر اگلتے سنا تو دل نے ہمیشہ یہی گواہی دی کہ" حمید گل تو واقعی کامیاب ہو گیا"
کچھ ہی وقفے سے ملا عمرؒ کے بعد حمید گل صاحب کا دنیا سے چلے جانا نظریاتی و جہادی فکر کے حامل افراد کے لیئے کسی المیہ سے کم نہیں۔ اللہ دونوں مجاہدین کو جنت الفردوس میں بلند مرتبہ عطا کرے اور لواحقین جو کے پورا ملک ہے صبر جمیل سے نوازے۔ آمین
تب پتا چل یہ وہ شخص ہے جس کی تبدبیر اور حکمت عملی نے سرخ آندھیوں کو بے وزن کر دیا
جس کی پلاننگ نے سوویت یونین کو زخم چاٹنے پر مجبور کر دیا
جس کی پشت پناہی نے افغانستان کو سوویت یونین کا قبرستان بنا دیا
جس نے کشمیریوں میں آزادی کی نئی رخ پھونک کر انڈیا کو ہلقان کر دیا
جس نے جہاد افغانستان میں الجھے پاکستان کو انڈیا کی مکاری سے بچانے کے لیئے خالصتان تحریک کارنامہ انجام دیا
جس نے انڈیا کی براس ٹیک فوجی ایکسرسائز کا منہ توڑ جواب ضرب مومن کی شکل میں دیا
جس کے زرخیر دماغ نے ISI کو دنیا کی ٹاپ ترین ایجنسیز کی فہرست میں لا کھڑا کیا کہ اب جس کا نام بھی انڈیا، امریکہ اور اسرائیل کے ایوانوں لرزا طاری کر دیتا ہے۔
ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیئے جس سیاسی حکمت عملی کے وہ قائل تھے اس طریقہ کار سے اختلاف تو یقینا کیا جا سکتا تھا مگر اسلامی نظام سے ان کی کمٹمنٹ کو کسی انداز میں بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ اسی جہادی اور نظریاتی فکر کی بدولت حمید گل صاحب "دل یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے بھی رہے"
امریکہ، انڈیا، سیکولرز، ملحد، بےنظیر اور دیگر اسلام بیزاروں کو جب بھی ان کے خلاف زہر اگلتے سنا تو دل نے ہمیشہ یہی گواہی دی کہ" حمید گل تو واقعی کامیاب ہو گیا"
کچھ ہی وقفے سے ملا عمرؒ کے بعد حمید گل صاحب کا دنیا سے چلے جانا نظریاتی و جہادی فکر کے حامل افراد کے لیئے کسی المیہ سے کم نہیں۔ اللہ دونوں مجاہدین کو جنت الفردوس میں بلند مرتبہ عطا کرے اور لواحقین جو کے پورا ملک ہے صبر جمیل سے نوازے۔ آمین
(شہزاداسلم مرزا)











0 تبصرے:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔