کچھ دوستوں کی محفل میں زیر بحث تھاکہ 14اگست کے حوالے سے ان کا کیا پروگرام ہے؟
ایک دوست کا کہنا تھا خوب مستی۔۔ 13 اور 14 کی رات موٹر سائیکل کا سائیلنسر نکال کر بازاروں اور سڑکوں پر موج مستی اور کھابے ۔۔ پھر دوسرا دوست بولا یار 14 کی چھٹی گھر آرام سے سو کر یا ایک آدھ انڈین مووی دیکھ کر گز جائے گی۔۔ اور تیسرا بولا دفعہ کرو 14 اگست آخر اس ملک نے ہمیں دیا ہی کیا ہے ؟
بحیثیت قوم ہم کیسے المیے سے دوچار ہیں کہ جن انگریزوں اور ہندوؤں اور ان کے تہذیب و تمدن سے آزادی حاصل کی آج انہی کے کلچر اور ثقافت کو دل سے لگائے ذہنی غلاموں جیسی تصویر بنے بیٹھے ہیں،اندراگاندھی نے کتنی بڑی صداقت بیان کی تھی کہ نے ہم نے پاکستان کو کلچر اور تہذیب کے میدان میں شکست فاش دے دی ہے ۔۔واقعی سچ ہی تو کہا ہماری تقریبات، مہمات، زبان اور رسم و رواج سب انگریز اور ہندو کلچر کے مطابق ہی تو ہو رہا ہے اور دکھ یہ ہے اس المیے کا ہمیں ادراک بھی نہیں ہو پا رہا۔
ہمارے والدین، اساتذہ، نصاب تعلیم ، دانشوروں، علماء اور حکمرانوں میں سے کسی نے بھی آج کے نوجوان کو پاکستان کے قیام کا مقصد، دو قومی نظریہ، قیام پاکستان کی جدوجہد میں دی گئی قربانیوں، غلامی جیسی لعنت اور آزادی جیسی نعمت کے متعلق دلیل سے سمجھانے کی زحمت گوارا نہیں کی اور بدقسمتی سے نوجوانوں میں بھی ان عوامل سے آگاہی حاصل کرنے کی کوئی تڑپ موجود نہیں ہے۔
کیا اتنی بات سمجھانا یا سمجھنا مشکل ہے کہ آزادی کی قدر پہچاننا ہے تو کشمیریوں، فلسطینیوں، برمیوں، عراقیوں، شامیوں اور افغانیوں سے پوچھو ۔۔ بےشمار قربانیاں دینے کے باوجود جن کو نہیں پتاہوتا کہ اگلے چند لمحوں میں ان کے مال، عزت و آبرو اور زندگی کے ساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے؟
نوجوانوں ۔۔میں ڈھنگ سے خوشی اور جشن منانے کے ہرگز خلاف نہیں مگر ساتھ ساتھ خد 27 ویں رمضان کو حاصل ہونے والی آزادی اور وطن کی اہمیت سمجھتے ہوئے اللہ کے حضور خصوصی شکرانے کے نوافل کا اہتمام اور تجدید عہد کے جزبے کے ساتھ بھی گزارو۔ یہی ہےلاکھوں قربانیاں دینے والے بانیان پاکستان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین انداز اور طریقہ۔
ایک دوست کا کہنا تھا خوب مستی۔۔ 13 اور 14 کی رات موٹر سائیکل کا سائیلنسر نکال کر بازاروں اور سڑکوں پر موج مستی اور کھابے ۔۔ پھر دوسرا دوست بولا یار 14 کی چھٹی گھر آرام سے سو کر یا ایک آدھ انڈین مووی دیکھ کر گز جائے گی۔۔ اور تیسرا بولا دفعہ کرو 14 اگست آخر اس ملک نے ہمیں دیا ہی کیا ہے ؟
بحیثیت قوم ہم کیسے المیے سے دوچار ہیں کہ جن انگریزوں اور ہندوؤں اور ان کے تہذیب و تمدن سے آزادی حاصل کی آج انہی کے کلچر اور ثقافت کو دل سے لگائے ذہنی غلاموں جیسی تصویر بنے بیٹھے ہیں،اندراگاندھی نے کتنی بڑی صداقت بیان کی تھی کہ نے ہم نے پاکستان کو کلچر اور تہذیب کے میدان میں شکست فاش دے دی ہے ۔۔واقعی سچ ہی تو کہا ہماری تقریبات، مہمات، زبان اور رسم و رواج سب انگریز اور ہندو کلچر کے مطابق ہی تو ہو رہا ہے اور دکھ یہ ہے اس المیے کا ہمیں ادراک بھی نہیں ہو پا رہا۔
ہمارے والدین، اساتذہ، نصاب تعلیم ، دانشوروں، علماء اور حکمرانوں میں سے کسی نے بھی آج کے نوجوان کو پاکستان کے قیام کا مقصد، دو قومی نظریہ، قیام پاکستان کی جدوجہد میں دی گئی قربانیوں، غلامی جیسی لعنت اور آزادی جیسی نعمت کے متعلق دلیل سے سمجھانے کی زحمت گوارا نہیں کی اور بدقسمتی سے نوجوانوں میں بھی ان عوامل سے آگاہی حاصل کرنے کی کوئی تڑپ موجود نہیں ہے۔
کیا اتنی بات سمجھانا یا سمجھنا مشکل ہے کہ آزادی کی قدر پہچاننا ہے تو کشمیریوں، فلسطینیوں، برمیوں، عراقیوں، شامیوں اور افغانیوں سے پوچھو ۔۔ بےشمار قربانیاں دینے کے باوجود جن کو نہیں پتاہوتا کہ اگلے چند لمحوں میں ان کے مال، عزت و آبرو اور زندگی کے ساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے؟
نوجوانوں ۔۔میں ڈھنگ سے خوشی اور جشن منانے کے ہرگز خلاف نہیں مگر ساتھ ساتھ خد 27 ویں رمضان کو حاصل ہونے والی آزادی اور وطن کی اہمیت سمجھتے ہوئے اللہ کے حضور خصوصی شکرانے کے نوافل کا اہتمام اور تجدید عہد کے جزبے کے ساتھ بھی گزارو۔ یہی ہےلاکھوں قربانیاں دینے والے بانیان پاکستان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین انداز اور طریقہ۔
(شہزاداسلم مرزا)











0 تبصرے:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔