"زلزلے بے سبب نہیں آتے"
میں سائنسی تاویلات کے ہر گز مخالف نہیں ہوں مگر جب ہم مسلمان بھی غیر مسلموں کی طرح زلزلے جیسی آفات کومحض علاقے کے فالٹ لائن پر ہو نے ، زمین کے درجہ حرارت میں تبدیلی ہونے یا زیر زمین پلیٹوں کے ہل جانے کے انداز میں ہی سوچتے ہیں تو میرا خوف بڑھ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بار بار متنبہ کرنے کے باوجود ہم بحیثیت مجموعی اپنے اندر اخلاقی و معاشرتی بگھاڑ کو نہ تو دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ ان پر شرمندہ و معافی کے طلبگار ہونا چاہتے ہیں۔ ہم کبھی آفات آسمانی و زمینی کو ان تعلیمات کے تناظر میں سوچنا ہی نہیں چاہتے جو اللہ نے اپنے پیارے محبوبﷺ کے ذریعے ہمیں بتائیں اور سیکھائی ہیں۔ کیا کبھی ہم نے سوچا اللہ ہم سے کیا چاہتا ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں اللہ نے سود سے منع کیا ہم نے مکمل سودی نظام اپنا لیا ، اللہ نے فحاشی سے روکا مگر فحاشی ہماری معاشرتی پہچان بن چکی ، اللہ نے ناپ تول اور کرپشن سے روکا مگر یہ ہمارے کاروبار کے اولین اصول قرار پائے ، اللہ نے غرباء پر ظلم سے روکا مگر یہاں ظالم ہی باعزت ٹھہرا ، اللہ نے عدل و انصاف کو حکمرانوں کے لیئے اولین ترجیح قرار دیا مگر ہم نے خود ایسے حکمران منتخب کیئے جنہوں نے اقرباء پروری اور خاندانی اجارہ داری کو اولین مقصد بنا لیا تو پھر اللہ تو ناراض ہو گا اور زلزلےاور سیلاب بھی آئیں گے۔ کاش ہمارے ملک میں کوئی حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ جیسا عادل اور خوف خدا رکھنے والا حاکم ہوتا جو زلزلے سے ہلتی ہوئی زمین پر پاؤں مار کر کہتا کہ کیوں ہلتی ہو کیا عمر تم پر انصاف نہیں کرتا اور زلزلہ رک جاتا۔
جب تک ہم زندگی کے اطوار ، اپنا چال چلن ، اخلاقی اوصاف اور سب سے بڑھ کر حکمرانوں کے چناؤ کےمعیار کو بہتر نہیں بنائیں گے ہمیں ایسی آفات کے لیے ذہنی طور پر ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔ #ذراسوچو
(شہزاداسلم مرزا)
(شہزاداسلم مرزا)











0 تبصرے:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔